کرکٹ کی ہستری کے سب سےبدترین اوورز، جسکے بارے میں باؤلرز کہتے کہ کاش میں نےیہ اوور نہ کرایا ہوتا

43

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
کرکٹ کوئی سائنس نہیں ، جس کےفارمولے میں قیمتیں درج کرنے سے مطلوبہ نتائج مل جاتے ہیں۔ یہ اتفاقات کا کھیل ہے اس میں بہت سے اچانک آنے والے موڑ پورے کھیل کا پانسہ ہی پلٹ دیتے ہیں۔

بہت مرتبہ ایسا ہوا کہ کوئی ٹیم میچ پر گرفت قائم کئے ہوئے ہے لیکن ایک برُا اوور اس فتح کو شکست میں بدل دیتا ہے۔ کرکٹ کی تاریخ میں بہت سے ایسے میچز کا ریکارڈ درج ہے

جہاں آخری یا کوئی خاص اوور بہت ہی مہنگا ثابت ہوا۔ اپنے قارئین کی دلچسپی کے لیے چند ایسے میچز کا احوال پیش خدمت ہے۔ دنیا میگزین کا شائع کردہ یہ احوال ہماری ویب کے قارئین کے لیے بھی:

محمد عامر کا اوور – انگلینڈ بمقابلہ پاکستان

کرکٹ کی تاریخ کا یہ اوور نہ صرف بائولر محمد عامر کے لیےتباہی کا پیغام لایا بلکہ ملک کی بد نامی کا سبب بھی بنا۔ اس اوور نے میچ تو نہیں ہروایا لیکن تین کرکٹرز کوجیل کی ہوا کھلائی اور

پھر انہیں پانچ برس کی پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ 26 اگست 2010 ء کو لارڈز میں پاکستانی ٹیم کپتان سلمان کی قیادت میں ٹیسٹ میچ کھیل رہی تھی۔

کرٹلی ایمبروز کا اوور – ویسٹ انڈیز بمقابلہ آسٹریلیا
یہ اوور 15گیندوں پر مشتمل تھا ویسٹ انڈیز کے معروف باؤلر کورٹلی ایمبروز پرتھ میں آسٹریلوی بلے بازی کی مضبوط دیوار کوتوڑنے کے لیے تیار تھا۔ پھر اس یادگار اوور کی شروعات ہوئی۔

ایک گیند کروائی، پھر نو بال، پھر گیند ،پھر نوبال، پھر نوبال، پھر وائیڈ بال اور ایک گیند کے بعد پھر نوبال۔ کپتان بھی سرپکڑ کر بیٹھ گیا کہ آخر کیا ہو رہا ہے مگر

اس تجربہ کار باؤلر کے ہاتھ میں گیند تو گویا ٹک ہی نہیں رہی تھی۔ ایمبروز کبھی اسے بھلا نہیں پائے۔ یہ میچ 3 فروری 1997 کو پرتھ کے مقام پر کھیلا گیا-

محمد سمیع کا اوور – بنگلہ دیش بمقابلہ پاکستان
ایشیا کپ 2004 ء سیزن میں محمد سمیع کا یہ اوور ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا، اسے آپ ون ڈے میچز کا سب سے طویل اوور کہہ سکتے ہیں۔ سامنے بنگلہ دیش کے حبیب البشر اور صالح تھے

جو آٹھویں نمبر پر بلے بازی کرنے آئے تھے۔ اوور میں محمد سمیع نے 9 وائیڈ بال پھینکے تھے، تاہم پاکستان یہ میچ 6وکٹوں سے جیت گیا تھا۔ پاکستان نے 166رنز چار وکٹوں کے نقصان بنا لیے تھے۔ یہ میچ کولمبو میں 29 جولائی2004 کو کھیلا گیا-

سیٹو ہارمیسن کا اوور – آسٹریلیا بمقابلہ انگلینڈ
اس میچ کے ایک اوور بلکہ ایک گیند نے میچ کا نقشہ ہی بدل کے رکھ دیا۔ سیٹو ہارمیسن نے تو اس موقع پرحد ہی کر دی، وہ گیند کروانے آئے تو لائن لینتھ اس قدر بھول گئے کہ ایک گیند سکینڈ سلپ پر کھڑے اینڈریو فلنٹوف کو پکڑنی پڑی۔ یہ میچ برسبین میں 23 نومبر 2006 کو کھیلا گیا-

میک لیوس کا اوور – جنوبی افریقہ بمقابلہ آسٹریلیا
12 مارچ 2006 کو جوہانسبرگ میں کھیلے جانے والے اس میچ میں آسٹریلیا کے کھاتے میں 434 رنز درج ہوئے اور کینگرو کپتان مطمئن تھا کہ وہ محفوظ سکور کی پٹاری لیکر میدان میں اتر رہا ہے لیکن یہ کوئی معمولی میچ نہ تھا اور نہ ہی لیوس کوئی عام کھلاڑی تھا۔

میک لیوس ہر شیل گبز کو اپنا ساتویں اوور کروانے کے لیے آیا، رنز مکمل کرنے کے لیے 18رنز کی ضرورت تھی۔ ہرشیل گبز نے اس اوور میں یہ رنز مکمل کر لیے اور آسٹریلیا کو ایک وکٹ سے شکست ہوئی۔ یاد رہے کہ گبز نے 21 چوکوں اور چھکوں کی مدد سے 175رنز بنائے تھے۔ جنوبی افریقہ 438 رنز بنا کر جیت گیا۔

ایک اوور میں چھےچھکے – جنوبی افریقہ بمقابلہ ہالینڈ 2006ء
کرکٹ کی تاریخ میں یہ دن بھی ایک یادگار دن تھا جب جنوبی افریقہ کے گبز نے ہالینڈ کے خلاف کھیلے جانے والے ون ڈے میچ میں ایک اوور میں مسلسل چھےچھکے مار کر تاریخ کی اس فہرست میں نام لکھوا یا،جہاں پہلے سے گیری سوبرز اور روی شاستری کا نام درج ہے جنہوں نے ڈومیسٹک میں ایک اوور میں چھےچھکے مارے ہوئے ہیں۔

سی ایم باندرا کا اوور – پاکستان بمقابلہ سری لنکا 2007ء

بوم بوم شاہد آفریدی دنیا کے تیسرے بلے باز ہیں جنہوں نے ایک اوور میں 32 رنز بنائے، انہوں نے سی ایم باندرا کو پہلی دو گیندوں پر چوکے اور آخری چار گیندوں پر چارچھکے جڑ کر اپنا

سکہ منوایا اور ایک اوور میں 32 رنز بنائے اسی طرح 2005-6ء جنوری میں ہونے والے ایک میچ میں آفریدی نے بھارتی باؤلر ہربھجن سنگھ کو ایک اوور کی پہلی چار گیندوں پر چارچھکے مار کر اس کےہوش ٹھکانے لگا دئیے تھے۔

روبن پیٹرسن کااوور – جنوبی افریقہ بمقابلہ سری لنکا
ون ڈے میچز میں مہنگے ترین اوورز میں سے ایک اوور جنوبی افریقہ کے سپن باؤلر روین پیٹرسن کا بھی گزرا ہےجس میں سری لنکا کے آل راؤنڈر تھیسارا پریرا نے5چھکے مارے اور

ایک چوکا مار کر 34رنز اپنےنام کئے۔ یہ 26جولائی 2013ء کو پالکے میں کھیلا جانے والا تیسرا ون ڈے میچ تھا۔ یہ میچ 26 جولائی 2013 کو پالکے میں کھیلا گیا-