امام الحق اور شاہین آفریدی پر الزام لگا کر واٹس ایپ چیٹ کی تصاویر لیک کرنے والی ’لڑکی‘ دراصل کون ہے؟ تہلکہ خیز انکشاف نے ہنگامہ برپا کر دیا

89

کرکٹ سے جڑی ہر خبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لائیک کریں شکریہ
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی امام الحق کا مبینہ سکینڈل سامنے آنے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے اور ہر کوئی اپنی رائے کا اظہار کرنے میں مصروف ہے۔


ٹوئٹر پر ’فریحہ‘ نامی ایک صارف نے قومی ٹیم کے اوپننگ بلے باز امام الحق کی کچھ تصاویر اور واٹس ایپ چیٹ کے سکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ایک ہی وقت میں سات سے آٹھ خواتین کیساتھ تعلق رکھے ہوئے ہیں اور ان کے جذبات کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔

یہ تصاویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا اور کوئی امام الحق کو تنقید کا نشانہ بنانے لگا تو کوئی ان کے حق میں سامنے آیا کہ ایسے معاشقے یکطرفہ نہیں ہوتے بلکہ لڑکے اور لڑکی کی رضامندی کیساتھ ہوتے ہیں مگر جب معاملات خراب ہو جائیں تو پھر لڑکیاں ’می ٹو‘ مہم کا سہارا لے کر خود معصوم بن جاتی ہیں۔

ابھی امام الحق کا معاملہ گرم ہی تھا کہ مذکورہ لڑکی نے شاہین شاہ آفریدی کی ایک تصویر جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ اب فاسٹ باﺅلر کے بارے میں بھی جلد ہی انکشافات کرنے جا رہی ہے۔ اس کیساتھ ہی اس نے بابراعظم، شاداب خان اور حسن علی کے ناموں پر مشتمل ایک پول بنا کر اپنے فالوورز سے پوچھا کہ ان میں سے کس کرکٹر کے بارے میں سب سے پہلے انکشافات کئے جائیں۔

ابھی یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ مذکورہ لڑکی کا اکاﺅنٹ ہی بند ہو گیا جس پر ہر کوئی حیران ہوا اور اب یہ انکشاف منظرعام پر آیا ہے کہ ’فریحہ‘ کے نام سے چلنے والے اکاﺅنٹ کے پیچھے کوئی لڑکی نہیں بلکہ ایک لڑکا ہے۔

بہت سے ٹوئٹر صارفین اس حوالے سے ٹویٹس کرنے کے علاوہ ناصرف اس لڑکے کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں بلکہ اسی اکاﺅنٹ پر کی گئی کچھ پرانی ٹویٹس کے سکرین شاٹس بھی سامنے لا رہے ہیں اور اس سارے معاملے نے ایک اور بحث کا آغاز کر دیا ہے اور قومی کرکٹرز کے کردار کو مشکوک بنانے کی کوشش کرنے پر مذکورہ لڑکے کیخلاف قانون کے مطابق سخت سے سخت ایکشن لینے کا مطالبہ شروع ہو گیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ”اسد سہیل “ نامی ایک صارف نے فریحہ کے ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاﺅنٹس کے چند سکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے لکھا ”وہ لڑکی جس نے امام الحق کے بارے میں انکشافات کئے جعلی نکلی۔ پہلے اس نے اپنا یوزر نیم تبدیل کیا اور اب اپنا اکاﺅنٹ ہی بند کر دیا ہے۔ اب یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ امام الحق سے متعلق سامنے آنے والے سکرین شاٹس بھی جعلی تھے۔ کیا ٹوئسٹ ہے۔“

اسد نے اپنی اگلی پوسٹ میں ’فریحہ‘ کے اکاﺅنٹ پر پروفائل پکچر کیلئے استعمال ہونے والی مردانہ تصاویر کے سکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے لکھا ”یہ وہ اکاﺅنٹ ہے جس نے گزشتہ روز امام الحق کے بارے میں انکشافات کئے۔ لگتا ہے کہ وہ اپنی پرانی ٹویٹس ڈیلیٹ کرنا بھول گیا۔ اس اکاﺅنٹ کو استعمال کرنے والے شخص کیخلاف مناسب قانونی کارروائی کی جانی چاہئے۔ اس شخص کو جیل میں جانا چاہئے کیونکہ یہ باہمی رضامندی سے ہونے والی گفتگو کو وائرل اور فحش مواد وائرل کر رہا ہے۔ امام الحق پر تنقید کرنے والوں کو اب خاموشی سے بیٹھنا چاہئے اور ان سے معافی مانگنی چاہئے۔“

’میر حادی‘ نامی ٹوئٹر صارف نے بھی ’فریحہ‘ کے اکاﺅنٹ پر کی گئی کچھ پرانی ٹویٹس کے سکرین شاٹ شیئر کئے جن میں وہی شخص ہے جس کی تصاویر اسد نے فیس بک پر شیئر کیں، میر حادی نے لکھا ”ٹوئٹر پر قومی کرکٹرز کے بارے میں انکشافات کرنے والی لڑکی کے اکاﺅنٹ پر کی گئی کچھ پرانی ٹویٹس کے سکرین شاٹس۔ انہیں شیئر کریں اور لوگوں تک پہنچائیں۔ اس کے سب دوستوں اور رشتہ داروں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کا فرحان اب ’فریحہ‘ ہو گیا ہے۔“

فہید عباسی نامی ایک ٹوئٹر صارف نے فریحہ کے اکاﺅنٹس پر کی گئی چند ٹویٹس کے سکرین شاٹس شیئر کی جن میں وہ واضح طور پر خود کو ایک لڑکا ظاہر کر رہا ہے۔ فہد عباسی نے سکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے لکھا ”اس لڑکے نے صرف توجہ اور چند فالوورز حاصل کرنے کیلئے امام الحق سے متعلق سکرین شاٹس وائرل کئے لیکن وہ اپنی پرانی ٹویٹس ڈیلیٹ کرنا بھول گیا۔“

ٹوئٹر صارفین کی جانب سے تو یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ لڑکی درحقیقت ایک لڑکا ہے اور اس لحاظ سے قومی کرکٹرز سے متعلق کی جانے والی ٹویٹس بھی جعلی تصور کی جا نی چاہئیں تاہم امام الحق اور شاہین شاہ آفریدی کی طرف سے تاحال اس بات تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔